ہندوستان کے مایہ ناز کرکٹر اور کمنٹیٹر نے پاکستانی ٹیم کے تعلق سے کہا:مجھے سی ٹیم کے بارے میں زیادہ یقین نہیں ہے لیکن موجودہ فارم کے ساتھ پاکستان کیلئے بی ٹیم کو ہرانا بہت مشکل ہوگا
EPAPER
Updated: February 26, 2025, 10:26 AM IST | New Delhi
ہندوستان کے مایہ ناز کرکٹر اور کمنٹیٹر نے پاکستانی ٹیم کے تعلق سے کہا:مجھے سی ٹیم کے بارے میں زیادہ یقین نہیں ہے لیکن موجودہ فارم کے ساتھ پاکستان کیلئے بی ٹیم کو ہرانا بہت مشکل ہوگا
چمپئن ٹرافی سے باہر ہونے کے ایک روز بعد بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ مایہ ناز کھلاڑی سنیل گاوسکر نے کہا کہ وہ کی ہندوستان کی بی ٹیم کو بھی شکست دینے کیلئے جدوجہد کریں گے۔ ۲۰۲۳ء ون ڈے ورلڈ کپ فائنلسٹ ہندوستان نے اتوار کو دبئی میں چمپئن ٹرافی میں دفاعی چمپئن پاکستان کو ۶؍ وکٹ سے شکست دی اور اس طرح اپنے روایتی حریفوں پر اپنا تسلط برقرار رکھا۔ گاوسکر نے کہا کہ ’’ `مجھے لگتا ہے کہ (ہندوستان کی) بی ٹیم یقینی طور پر (پاکستان کو سخت مقابلہ دے سکتی ہے)۔ مجھے سی ٹیم کے بارے میں زیادہ یقین نہیں ہے لیکن موجودہ فارم کے ساتھ پاکستان کے لئے بی ٹیم کو ہرانا بہت مشکل ہوگا۔۱۹۹۶ء کے بعد پہلی بار کسی آئی سی سی ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنے والا پاکستان گروپ اے کے ایک اور میچ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بنگلہ دیش کو شکست دینے کے بعد چمپئن ٹرافی سے باہر ہو گیا۔ اس ایونٹ میں پاکستان نے ابھی تک کوئی جیت درج نہیں کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیوزی لینڈ کی بنگلہ دیش پر جیت
۲۰۱۷ء میں چمپئن ٹرافی جیتنے کے بعد سے پاکستان کے کرکٹ کی قسمت خراب رہی ہے ، ٹیم گزشتہ دو ون ڈے ورلڈ کپ میں ۵؍ویں نمبر پر رہی ہے۔ گاوسکر نے کہاکہ `میرے خیال میں یہ حیران کن ہے - بینچ کی طاقت کا فقدان، پاکستان میں ہمیشہ فطری صلاحیتیں موجود ہیں۔ فطری اس لحاظ سے کہ شاید وہ ہمیشہ تکنیکی طور پر درست نہیں رہے ہوں گے، لیکن انہیں بلے اور گیند کی فطری سمجھ تھی۔ ایک مثال دیتے ہوئے گاوسکر نے کہاکہ ’’ `انضمام الحق کو دیکھو۔ اگر آپ ان کے رویے کو دیکھیں تو آپ کسی نوجوان بلے باز کو ایسا کرنے کا مشورہ نہیں دیں گے، لیکن وہ بہت اچھے مزاج کے مالک تھے۔ اس طرح کے مزاج کے ساتھ انہوں نے کسی تکنیکی دشواریوں کو دور کیا۔ گاوسکر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور ڈومیسٹک وائٹ بال ٹورنامنٹس کے باوجود معیاری کھلاڑی پیدا کرنے کیلئے جدوجہد کی ہے۔ سابق ہندوستانی کپتان نے کہاکہ ’’ `ہندوستان نے وائٹ بال کرکٹ میں اتنے نوجوان اسٹارس کیسے پیدا کئے؟ یہ آئی پی ایل کی وجہ سے ہے۔ وہاں سے کھلاڑی رنجی ٹرافی اور آخر کار ہندوستان کے لئے کھیلنے گئے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جس کا پاکستان کرکٹ کو تجزیہ کرنا چاہیے۔ انہیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اب ان کے پاس بینچ کی طاقت کیوں نہیں ہے جو پہلے تھی۔